Kurulus Osman Season 2

کورلش عثمان –

Kurulus Osman Season 2 With Urdu Subtitles 

If you want to watch Kurulus Osman Season 2 with Urdu Subtitles with no ads and permanent access, then You may watch Kurulus Osman Series with Urdu Subtitles Those who are searching for watching Kurulus Osman Season 2 all episodes with Urdu Subtitles can watch here at PkFilmy

دوستو ! اس میں کوٸ دو راۓ نہیں کہ ترکش ڈرامہ کورلش عثمان نے دنیا کی فلم انڈسٹریز کی ٹانگیں توڑ دی ہیں ۔ عالمی سطح پر ایوارڈ یافتہ یہ ڈرامہ فلم ڈاٸریکٹر بوزداغ کی پروڈکشن ہے ۔

اس سیریز کے مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کی دلچسپی خلافت عثمانیہ کے لازوال قصوں کی طرف بڑھتی جا رہی ہے ۔

دوستو ! آج میں سلطنت عثمانیہ کے بانی ، یعنی ڈرامہ سیریز کورلش عثمان کے مرکزی کردار غازی عثمان کی حیات جاودانی پر قلم کاری کرنے کی جسارت کروں گا۔

1258 عیسوی میں ترک سردار ارتغل غازی کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جسکا نام عثمان رکھا گیا۔

یہ ترکوں کا وہ دور تھا جب منگول عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے تھے اور تاتاری آۓ دن بھوکے بھیڑیوں کی طرح شہر کے شہر چباۓ جا رہے تھے ۔

اسی دوران امت مسلمہ کی کایہ پلٹ دینے والا ترکوں کا روشن مستقبل اور دنیا کی سب سے بڑی خلافت عثمانیہ کا بانی جنم لے چکا تھا ۔عثمان غازی کی دینی تربیت انکے والد ارتغل غازی کے دوست شیخ ادابالی نے کی۔ غازی عثمان نے خلافت عثمانیہ کا خواب شیخ ادابالی کی درگاہ میں دیکھا جس کے بعد وہ شیخ ادابالی کے داماد بھی بن گۓ ۔

27 ستمبر1299 میں ارتغل غازی کی وفات کے بعد اپنی ریاست کے حکمران بن گۓ ۔ روم کے دارالحکومت قونیہ پر منگولوں کے حملے اور سلجوق سلطنت کےتہس نہس ہونے کے بعد غازی عثمان کی سلطنت خودمختار ہوگٸ جو بعد میں عظیم سلطنت عثمانیہ کہلاٸ ۔

غازی عثمان کی جاگیر بازنطینی سرحدوں سے جا ملتی تھی ۔اسلیےبازنطینیوں اور غازی عثمان کے بیچ اکثر خانہ جنگی چلتی رہتی تھی ۔ اس خانہ جنگی میں غازی عثمان کو اکثر وبیشتر فتح حاصل ہوٸ اور بہت سے بازنطینی علاقے بھی فتح ہوۓ ۔

عثمان غازی نے کاراجہ حصار قلعے کا محاصرہ کیا اور پورا قلعہ خاک میں ملا کر بازنطینیوں کو خبردار کیا کہ تم اس غیور قوم سے لڑ رہے ہو جو اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے سروں پر کفن باندھے میدان جنگ میں اترتے ہیں ۔

اس فتح سے سلجوقی بادشاہ بہت خوش ہوا اور وہ فتح کیا ہوا وہ علاقہ عثمان غازی کی جاگیر میں دے دیا ۔

قسمت کی تمام دھاراٸیں عثمان غازی کی طرف تھیں اور بادشاہت کے لوازمات میسر آچکے تھے ۔ 1300 عیسوی میں تاتاریوں نے سلجوقی سلطنت کا نام و نشان مٹا دیا تو دوسری طرف غازی عثمان بالکل آزاد و خو مختار ہوگۓ ۔

عثمان غازی نے خود مختار ہوکر بہت سی فتوحات حاصل کیں اور اپنی بادشاہت قاٸم کردی ۔ شہروں کے انتظامی امورپر دسترس حاصل کر کے مزید بہتری کی طرف بڑے اقدامات اٹھاۓ اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ عثمان ک طاقت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی اور ترک سردار اس خاموشی کو کمزوری سمجھ رہے تھے ۔ غازی عثمان نے 1301 میں تمام سرداروں کی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے برسہ کا ایک شہر فتح کرکے اپنی نَو زاٸدہ سلطنت کا دارالحکو مت بنا دیا ۔ اگلے چھ سالوں میں عثمان نے بہت سے بازنطینی علاقوں پر حملہ کیا اور بحر اسود تک تمام علاقوں پر پرچم اسلام لہرایا ۔ اور یوں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت خلافت عثمانیہ کا تخت دنیا کے نقشے پر سجا دیا ۔

دستو ! خلافت عثمانیہ امت مسلمہ کے درخشاں دور کی یادگار نشانی ہے ۔ جو تاریخ کے ان گنت صفحات کی زینت بھی ہے،اسلیے ایک کالم میں اسکی مکمل عکاسی ہتھیلی پر سرسو جمانے کے مترادف ہے ۔

الغرض اس سلطنت اور اسکے بانی غازی عثمان کی عظمت آج بھی اس قدر شہرت کی حامل ہے کہ ترکش سیریز کورلش عثمان 2020 میں ترکی چینل ATV پر شاٸقین کی توجہ کامرکز بنی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی اسکرینوں کی زینت بن گٸ ۔

دنیا کی بہت سی زبانوں میں دکھاٸ گٸ ۔

Back to top button